بھٹکل 10/ ڈسمبر (ایس او نیوز/ وسنت دیواڑیگا) بھٹکل میں ہنی ٹریپ کے ذریعے ایک نوجوان سے ہزاروں روپئے لوٹنے کی ایک سنسنی خیز واردات سامنے آنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے دو ملزموں کو گرفتارکرلیا ہے، جبکہ پولس کو اس معاملے میں دو خواتین کی بھی تلاش ہے جو فرار ہوگئی ہیں۔
گرفتارشدگان کی شناخت بھٹکل پُورورگہ کے رہائشی مرتضیٰ (24) اور رضوان (22) کے طور پر کی گئی ہے۔ پولس نے بتایا کہ ہنی ٹریپ ٹیم میں شامل پورورگہ کی دو خواتین فرار ہوگئی ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
کیا ہے پورا معاملہ: تعلقہ کے محمد شکیل (49) جو پھول بازار کے قریب ایک دکان چلاتے ہیں،6 نومبر کودوخواتین خریداری کے بہانے ان کی دکان میں داخل ہوئیں ان سے دوستی کا ناٹک کرتے ہوئے موبائل نمبر حاصل کیا، پھراسے بار بار فون کرکے اپنی دلفریب باتوں کےذریعےاپنے جال میں پھنسا دیا۔ انہوں نے فون کرتے ہوئے اس کو اس بات پرراضی کرایا کہ وہ ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو جائے۔
دکاندارخواتین کی باتوں میں آگیا اوردکان بند کرکے خواتین کی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے رات کواپنی بائک پر تینگنگنڈی کراس چلا گیا۔ وہاں سے وہ پیٹرول پمپ کی طرف پیدل چل پڑا۔ جہاں نیشنل ہائی وے پر ہی دونوں خواتین کار پر اس کا انتظار کررہی تھیں، جیسے ہی وہ کار پر سوار ہوا، کار مرڈیشور کی طرف چل پڑی۔ اُترکوپّا کے راستے کار جنگل میں جانے کے بعد جب ایک جگہ پر رُکی تو کار کی ڈکّی سے ایک اور شخصٓ باہر آگیا جس نےڈرائیور کے ساتھ مل کراس کی گردن پر چھری رکھ دی اور پیسے دینے کی دھمکی دی۔
شکیل نے دکان سے لائی ہوئی بیس ہزار روپئے اور فون پے کے ذریعے مزید 49 ہزار روپئے کی خطیر رقم اُن کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کرکے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ یہاں سے شکیل کو ہوناور لے جایا گیا اور جنگل میں کار روک کرعورتوں کے ساتھ کھڑا کرکے موبائل پر اس انداز سے وڈیو گرافی کی گئی جیسے وہ ان عورتوں کے ساتھ غلط حرکت کرتا ہوا پکڑا گیا ہو۔ پھر اسے دھمکی دی گئی کہ اگر اس واردات کے بارے میں کسی کے سامنے منہ کھولا یا پولس میں جاکر شکایت کی تو یہ وڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل کردی جائے گی۔
شکیل اُس وقت مزید خوف میں مبتلا ہوگیا جب خواتین نے اپنے دو ساتھیوں سے کہا کہ اسے جنگل میں ہی کاٹ کر پھینک دیں گے۔ اب یہ بات پولس کی چھان بین سے ہی سامنے آئے گا کہ یہ بات اُسے صرف ڈرانے کی نیت سے کی گئی تھی یا پھرکام ہونے کے بعد اس کا کام تمام کرنے کا پلان تھا۔
رات دیر گئے شکیل کو اسی کارمیں واپس بھٹکل کی طرف لایا گیا، جیسے ہی کار شیرالی کے قریب پہنچی، شکیل نے مدد کےلئے چلانا شروع کردیا،جس کو دیکھتے ہوئے اسے شیرالی چیک پوسٹ کے قریب کار سے باہر پھینک کر کار بھٹکل کی طرف فرار ہوگئی۔ شکیل وہاں سے وینکٹاپور فیکٹری کے قریب تک پیدل گیا، وہاں سے کسی نے اسے تینگنگونڈی کراس تک لفٹ کے ذریعے پہنچایا۔ جہاں پر رکھی ہوئی اپنی بائک کے ذریعے وہ رات دیر گئے اپنے گھر پہنچا۔
تنظیم نے پولس میں شکایت درج کرانے کی دی صلاح: بدنامی سے بچنے کے لئے کافی دنوں تک خاموش رہنے کے بعد شکیل نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو واقعے سے آگاہ کرایا، جہاں سے یہ بات قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنطیم کے ذمہ داروں کے کانوں تک پہنچ گئی۔ ذمہ داران نے اسے حوصلہ دیا کہ اُسے معاملے کی شکایت پولس تھانہ میں درج کرنی چاہئے۔ جس کے بعد بھٹکل مضافاتی پولس تھانہ میں شکیل نے شکایت درج کرائی۔
واقعے کا علم ہوتے ہی پولس حرکت میں آگئی اورسرکل پولس انسپکٹر چندن گوپال کی قیادت میں پولس نے فون کالس اور رقم کی منتقلی کی بنیاد پر دو لوگوں کو فوری طور پرگرفتار کرلیا۔ پولس حرکت میں آنے کی اطلاع ملتے ہی ہنی ٹریپ میں شامل دونوں خواتین بھٹکل سے فرار ہوگئیں۔ پولس دونوں کی تلاش میں ہے۔
لوٹنے والا گروہ
گذشتہ 8 دسمبر کو بھٹکل سرپن کٹہ درگاہ کے قریب ایک پہاڑی پرلے جاکرایک نوجوان کی بھی سونے کی چین اوراس کا موبائل فون چھین لیا گیا تھا اب پولس کو پتہ چلا ہے کہ لوٹ کی اُس واردات کو مبینہ طورپرمرتضیٰ اور رضوان نے ہی انجام دیا تھا۔ لوٹ کی اس واردات کے تعلق سے بھی مضافاتی پولس تھانہ میں معاملہ درج ہے۔
ان لوگوں نے مزید کن کن لوگوں کو لُوٹا ہے اورکتنے لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے پھنسایا ہے، پولس چھان بین کے بعد ہی پورے معاملے پر سے پردہ اُٹھنے کی توقع ہے۔
Honeytrap robbery unveiled in Bhatkal: Two arrested, hunt on for escaped accomplices